Poetry
- ادائیں ہیں جو اس رشک پری میںنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میںہاجر دہلوی
- الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
- رنج میں بھی شاد رہنا چاہئےیہ مقولہ یاد رہنا چاہئےہاجر دہلوی
- رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
- سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیںانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیںہاجر دہلوی
- عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہےمری جاں کیا یہی رسم وفا ہےہاجر دہلوی
- مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
- نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہےخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہےہاجر دہلوی
- کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیانہیں جب ربط تو پھر مدعا کیاہاجر دہلوی