Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ادائیں ہیں جو اس رشک پری میںنہ ڈھونڈے سے ملیں گی وہ کسی میںہاجر دہلوی
  2. الٹا اثر یہ شکوۂ بیداد سے ہواوہ اور بھی خفا مری فریاد سے ہواہاجر دہلوی
  3. رنج میں بھی شاد رہنا چاہئےیہ مقولہ یاد رہنا چاہئےہاجر دہلوی
  4. رہتا ہے ہمیشہ جو مری یار بغل میںجلتے ہیں اسے دیکھ کے اغیار بغل میںہاجر دہلوی
  5. سوائے عشق بتاں اور مجھ کو کام نہیںانہی کا ذکر ہے لب پر خدا کا نام نہیںہاجر دہلوی
  6. عدو پر لطف ہے ہم پر جفا ہےمری جاں کیا یہی رسم وفا ہےہاجر دہلوی
  7. مانند شمع بزم پگھلنے کے واسطےپیدا ہوا ہوں عشق میں جلنے کے واسطےہاجر دہلوی
  8. نہیں غم گر خفا سارا جہاں ہےخدا کا شکر ہے وہ مہرباں ہےہاجر دہلوی
  9. کسی سے عشق دشمن کا گلہ کیانہیں جب ربط تو پھر مدعا کیاہاجر دہلوی