Poetry
- بے محل ہے گفتگو ہیں بے اثر اشعار ابھیزندگی بے لطف ہے نا پختہ ہیں افکار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- خلش و سوز دل فگار ہی دیدل میں شمشیر آب دار ہی دیHabib Tanvir (1923–2009)
- میں نہیں جا پاؤں گا یارو سوئے گلزار ابھیدیکھنی ہے آبجوئے زیست کی رفتار ابھیHabib Tanvir (1923–2009)
- تمہارے گاؤں سے جو راستہ نکلتا ہےمیں بار بار اسی راستے گزرا ہوںHabib Tanvir (1923–2009)
- میری بچی نے مجھ سے کل پوچھابابا یہ آسماں ہے نیلا کیوںHabib Tanvir (1923–2009)
- میں نے سوچا تمہیں مدت سے نہیں دیکھا ہےدل بہت دن سے ہے بے چین چلوں گھر ہو آؤںHabib Tanvir (1923–2009)