Poetry
- اہل دل کے واسطے پیغام ہو کر رہ گئیزندگی مجبوریوں کا نام ہو کر رہ گئیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- جسم تو مٹی میں ملتا ہے یہیں مرنے کے بعداس کو کیا روئیں جو مرتا ہی نہیں مرنے کے بعدGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- دوستی اپنی جگہ اور دشمنی اپنی جگہفرض کے انجام دینے کی خوشی اپنی جگہGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- رہ عشق میں غم زندگی کی بھی زندگی سفری رہیکبھی نذر خاک سفر رہی کبھی موتیوں سے بھری رہیGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- سامنے آنکھوں کے گھر کا گھر بنے اور ٹوٹ جائےکیا کرے وہ جس کا دل پتھر بنے اور ٹوٹ جائےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- سانسوں کی جل ترنگ پر نغمۂ عشق گائے جااے مری جان آرزو تو یوں ہی مسکرائے جاGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- کتنے جملے ہیں کہ جو روپوش ہیں یاروں کے بیچہم بھی مجرم کی طرح خاموش ہیں یاروں کے بیچGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- ماحول سازگار کرو میں نشے میں ہوںذکر نگاہ یار کرو میں نشے میں ہوںGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- ارض دکن میں جان تو دلی میں دل بنیاور شہر لکھنؤ میں حنا بن گئی غزلGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- داغؔ کے شعر جوانی میں بھلے لگتے ہیںمیرؔ کی کوئی غزل گاؤ کہ کچھ چین پڑےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)
- رات کی رات بہت دیکھ لی دنیا تیریصبح ہونے کو ہے اب طرزؔ کو سو جانے دےGanesh Bihari Tarz (1932–2008)