Poetry
- انسانوں کا چپ کر جانا ٹھیک نہیںتحریروں کا شور مچانا ٹھیک نہیںDanish Aziz (b. 1970)
- بکھرا پڑا تھا جا بجا کچرا وجود کاہم چھوڑ آئے اس گلی ملبہ وجود کاDanish Aziz (b. 1970)
- بے شمارو میرے یارو الوداعمرغ زارو چاند تارو الوداعDanish Aziz (b. 1970)
- پگڈنڈی لگ رہی تھی پہاڑوں کے درمیاںنکلی ہوئی تھی مانگ یوں بالوں کے درمیاںDanish Aziz (b. 1970)
- تو فقط کہانی سن ہچکیوں کو بھول جااشک بار لوگ گن تالیوں کو بھول جاDanish Aziz (b. 1970)
- حسیں جبیں پہ مرے ہونٹ تھرتھرانے لگےپھر اس کے بعد مرے ہوش کب ٹھکانے لگےDanish Aziz (b. 1970)
- دھڑکتے دل کو یوں دھڑکن سنایا کرتے ہیںکھلی ہوں بانہیں تو ان میں سمایا کرتے ہیںDanish Aziz (b. 1970)
- کہا تھا تم سے نہ پیار کرنا وہی کیا نانہ لفظ بننا نہ شعر کہنا وہی کیا ناDanish Aziz (b. 1970)
- گر صبح دم وہ خوش گلو خوش خو نکل پڑےپھولوں کو چھوڑ چھاڑ کے خوشبو نکل پڑےDanish Aziz (b. 1970)
- مجھ کو تھپک تھپک کے سلاتا رہا چراغپہلو میں رات بھر مرے بیٹھا رہا چراغDanish Aziz (b. 1970)
- میرے جیسے اس بستی میں اور بھی پاگل رہتے ہیںسب نے آنکھیں گروی رکھ کر آدھے خواب خریدے ہیںDanish Aziz (b. 1970)
- وہ کسی اور سے ملا ہوگادل یہ کہتا ہے واہمہ ہوگاDanish Aziz (b. 1970)
- ہو جائیں کسی کے جو کبھی یار منافقسمجھو کہ ہوئے ہیں در و دیوار منافقDanish Aziz (b. 1970)