Poetry
- ابھی ابھی ہوا ہم تیرگی سے نکلے ہیںجہان عشق کی اندھی گلی سے نکلے ہیںDakhlan Bhopali (b. 1973)
- اجڑے ہوئے جہان بہت وقت ہو گیازندہ ہے بس تھکان بہت وقت ہو گیاDakhlan Bhopali (b. 1973)
- رشک اس بات پہ مر جاتا ہےکم سے کم ملنے تو وہ آتا ہےDakhlan Bhopali (b. 1973)
- فیض سمجھے تھے جسے تھا وہ زیاں حیرت ہےیہ محبت ہی مرے دل کو گراں حیرت ہےDakhlan Bhopali (b. 1973)
- وہ بس رسہ کشی تھیمحبت تھک چکی تھیDakhlan Bhopali (b. 1973)
- ہر ایک شعر میں آہ و فغاں نکلے گیسفر کی مشکلیں رونے کا فائدہ کیا ہےDakhlan Bhopali (b. 1973)
- ہماری روح کو چھوکر گزر گیا ہے ابھیوہ ایک لمحہ نہ جانے کدھر گیا ہے ابھیDakhlan Bhopali (b. 1973)