Poetry
- اپنی ناکام تمناؤں کا ماتم نہ کروتھم گیا دور مئے ناب تو کچھ غم نہ کروعبدالعزیز فطرت
- خاموش کلی سارے گلستاں کی زباں ہےیہ طرز سخن آبروئے خوش سخناں ہےعبدالعزیز فطرت
- غنچے کا جواب ہو گیا ہےدل کھل کے گلاب ہو گیا ہےعبدالعزیز فطرت
- کچھ ایسا تھا گمرہی کا سایااپنا ہی پتا نہ ہم نے پایاعبدالعزیز فطرت
- کیا کہیں ملتا ہے کیا خوابوں میںدل گھرا رہتا ہے مہتابوں میںعبدالعزیز فطرت
- مری میں جشن شب منورعبدالعزیز فطرت