Poetry
- اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کوکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کوعبدالعلیم آسی
- اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کرزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کرعبدالعلیم آسی
- جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دےکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہےعبدالعلیم آسی
- حجاب گنج مخفی میں نہاں تھےالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھےعبدالعلیم آسی
- حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوزنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوزعبدالعلیم آسی
- کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میںکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میںعبدالعلیم آسی
- وہ اگر بے حجاب ہو جاتاخلق میں انقلاب ہو جاتاعبدالعلیم آسی