Poetry
- آسماں پر کالے بادل چھا گئےگھر کے اندر آئنے دھندلا گئےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- چپ تھے جو بت سوال بہ لب بولنے لگےٹھہرو کہ قوس برق و لہب بولنے لگےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- دمک اٹھی ہے فضا ماہتاب خواب کے ساتھدھڑک رہا ہے یہ دل کس رباب خواب کے ساتھBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- قدموں سے اتنا دور کنارہ کبھی نہ تھانا قابل عبور یہ دریا کبھی نہ تھاBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- کہیں صبح و شام کے درمیاں کہیں ماہ و سال کے درمیاںیہ مرے وجود کی سلطنت ہے عجب زوال کے درمیاںBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- گم ہوئے جاتے ہیں دھڑکن کے نشاں ہم نفسوہے در دل پہ کوئی سنگ گراں ہم نفسوBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- گوریوں نے جشن منایا میرے آنگن بارش کابیٹھے بیٹھے آ گئی نیند اصرار تھا یہ کسی خواہش کاBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- نشان زخم پہ نشتر زنی جو ہونے لگیلہو میں ظلمت شب انگلیاں بھگونے لگیBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)
- جو بات نثری ہے نظریاتی ہے جدلیاتی ہے وہ مکمل کبھی نہ ہوگیمگر جو مجمل ہے اور موزوں ہے اور حتمی اور آخری ہے وہ شاعری ہےBadr-e-Alam Khalish (b. 1962)