Poetry
- آج کیا ہے جو ملا شوخ نگاہوں کو قرار؟کیا ہوا حسن کی معصوم حیاؤں کا وقارShakeel Badayuni (1916–1970)
- اک شہنشاہ نے بنوا کے حسیں تاج محلساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ایک شب ہلکی سی جنبش مجھے محسوس ہوئیمیں یہ سمجھا مرے شانوں کو ہلاتا ہے کوئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- پھولوں پہ رقص اور نہ بہاروں پہ رقص کرگلزار ہست و بود میں خاروں پہ رقص کرShakeel Badayuni (1916–1970)
- راحت بندۂ بے دام کہاں ہے آ جاپیکر حسن سر بام کہاں ہے آ جاShakeel Badayuni (1916–1970)
- شفق نزع میں لے رہی تھی سنبھالااندھیرے کا غم کھا رہا تھا اجالاShakeel Badayuni (1916–1970)
- مرے ساقیا مجھے بھول جامرے دل ربا مجھے بھول جاShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہم نشیں رات کی مغموم خموشی میں مجھےدور کچھ دھیمی سی نغموں کی صدا آتی ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ان کا ذکر ان کی تمنا ان کی یادوقت کتنا قیمتی ہے آج کلShakeel Badayuni (1916–1970)
- بزدلی ہوگی چراغوں کو دکھانا آنکھیںابر چھٹ جائے تو سورج سے ملانا آنکھیںShakeel Badayuni (1916–1970)
- بھیج دی تصویر اپنی ان کو یہ لکھ کر شکیلؔآپ کی مرضی ہے چاہے جس نظر سے دیکھیےShakeel Badayuni (1916–1970)
- بے پیے شیخ فرشتہ تھا مگرپی کے انسان ہوا جاتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- پی شوق سے واعظ ارے کیا بات ہے ڈر کیدوزخ ترے قبضے میں ہے جنت ترے گھر کیShakeel Badayuni (1916–1970)
- ترک مے ہی سمجھ اسے ناصحاتنی پی ہے کہ پی نہیں جاتیShakeel Badayuni (1916–1970)
- تم پھر اسی ادا سے انگڑائی لے کے ہنس دوآ جائے گا پلٹ کر گزرا ہوا زمانہShakeel Badayuni (1916–1970)
- جانے والے سے ملاقات نہ ہونے پائیدل کی دل میں ہی رہی بات نہ ہونے پائیShakeel Badayuni (1916–1970)
- کس سے جا کر مانگیے درد محبت کی دواچارہ گر اب خود ہی بے چارے نظر آنے لگےShakeel Badayuni (1916–1970)
- کل رات زندگی سے ملاقات ہو گئیلب تھرتھرا رہے تھے مگر بات ہو گئیShakeel Badayuni (1916–1970)
- کیا اثر تھا جذبۂ خاموش میںخود وہ کھچ کر آ گئے آغوش میںShakeel Badayuni (1916–1970)
- نہ پیمانے کھنکتے ہیں نہ دور جام چلتا ہےنئی دنیا کے رندوں میں خدا کا نام چلتا ہےShakeel Badayuni (1916–1970)
- ہمیں جن کی دید کی آس تھی وہ ملے تو راہ میں یوں ملےمیں نظر اٹھا کے تڑپ گیا وہ نظر اٹھا کے گزر گئےShakeel Badayuni (1916–1970)