Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
  2. کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلااسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  3. کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظرکچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  4. کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآلہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  5. گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
  6. مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوںقدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئےSaba Akbarabadi (1908–1991)
  7. ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)