Poetry
- کفر و اسلام کے جھگڑے کو چکا دو صاحبجنگ آپس میں کریں شیخ و برہمن کب تکSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کمال ضبط میں یوں اشک مضطر ٹوٹ کر نکلااسیر غم کوئی زنداں سے جیسے چھوٹ کر نکلاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کون اٹھائے عشق کے انجام کی جانب نظرکچھ اثر باقی ہیں اب تک حیرت آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- کیا مآل دہر ہے میری محبت کا مآلہیں ابھی لاکھوں فسانے منتظر آغاز کےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- گئے تھے نقد گرانمایۂ خلوص کے ساتھخرید لائے ہیں سستی عداوتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)
- مسافران رہ شوق سست گام ہو کیوںقدم بڑھائے ہوئے ہاں قدم بڑھائے ہوئےSaba Akbarabadi (1908–1991)
- ہوس پرست ادیبوں پہ حد لگے کوئیتباہ کرتے ہیں لفظوں کی عصمتیں کیا کیاSaba Akbarabadi (1908–1991)