Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تمہارے ہیں کہو اک دنکہو اک دنObaidullah Aleem (1939–1998)
  2. میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزووہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  3. میں آئینہ ہوںاور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
  4. میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوںنہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  5. میں وہ شجر تھاکہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
  6. یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰمیں ان کا خالق یہ میرے خالقObaidullah Aleem (1939–1998)
  7. آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گاObaidullah Aleem (1939–1998)
  8. آؤ تم ہی کرو مسیحائیاب بہلتی نہیں ہے تنہائیObaidullah Aleem (1939–1998)
  9. اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آبادتو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
  10. انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
  11. تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوںوہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  12. جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسیسوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
  13. جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئیبدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  14. جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبرہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھناObaidullah Aleem (1939–1998)
  15. دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہےپھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرحObaidullah Aleem (1939–1998)
  16. شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیںدھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
  17. صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھااس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
  18. عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائےObaidullah Aleem (1939–1998)
  19. میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیاتو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
  20. میں تنہا تھا میں تنہا ہوںتم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
  21. ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئیکہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
  22. ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگنہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)