Poetry
- تمہارے ہیں کہو اک دنکہو اک دنObaidullah Aleem (1939–1998)
- میری آنکھوں میں کوئی چہرہ چراغ آرزووہ میرا آئینہ جس سے خود جھلک جاؤں کبھیObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں آئینہ ہوںاور ہر آنے والے کو وہی چہرہ دکھاتا ہوںObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوںنہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں وہ شجر تھاکہ میرے سائے میں بیٹھنے اور شاخوں پہ جھولنے کی ہزاروں جسموں کو آرزو تھیObaidullah Aleem (1939–1998)
- یہ لفظ سقراط لفظ عیسیٰمیں ان کا خالق یہ میرے خالقObaidullah Aleem (1939–1998)
- آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گاجانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گاObaidullah Aleem (1939–1998)
- آؤ تم ہی کرو مسیحائیاب بہلتی نہیں ہے تنہائیObaidullah Aleem (1939–1998)
- اگر ہوں کچے گھروندوں میں آدمی آبادتو ایک ابر بھی سیلاب کے برابر ہےObaidullah Aleem (1939–1998)
- انسان ہو کسی بھی صدی کا کہیں کا ہویہ جب اٹھا ضمیر کی آواز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
- تم اپنے رنگ نہاؤ میں اپنی موج اڑوںوہ بات بھول بھی جاؤ جو آنی جانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- جس کو ملنا نہیں پھر اس سے محبت کیسیسوچتا جاؤں مگر دل میں بسائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
- جوانی کیا ہوئی اک رات کی کہانی ہوئیبدن پرانا ہوا روح بھی پرانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- جو دل کو ہے خبر کہیں ملتی نہیں خبرہر صبح اک عذاب ہے اخبار دیکھناObaidullah Aleem (1939–1998)
- دوستو جشن مناؤ کہ بہار آئی ہےپھول گرتے ہیں ہر اک شاخ سے آنسو کی طرحObaidullah Aleem (1939–1998)
- شاید اس راہ پہ کچھ اور بھی راہی آئیںدھوپ میں چلتا رہوں سائے بچھائے جاؤںObaidullah Aleem (1939–1998)
- صبح چمن میں ایک یہی آفتاب تھااس آدمی کی لاش کو اعزاز سے اٹھاObaidullah Aleem (1939–1998)
- عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائےاب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائےObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں اس کو بھول گیا ہوں وہ مجھ کو بھول گیاتو پھر یہ دل پہ کیوں دستک سی ناگہانی ہوئیObaidullah Aleem (1939–1998)
- میں تنہا تھا میں تنہا ہوںتم آؤ تو کیا نہ آؤ تو کیاObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہزار راہ چلے پھر وہ رہ گزر آئیکہ اک سفر میں رہے اور ہر سفر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)
- ہزار طرح کے صدمے اٹھانے والے لوگنہ جانے کیا ہوا اک آن میں بکھر سے گئےObaidullah Aleem (1939–1998)