Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ہے دل میں غبار اس کے گھر اپنا نہ کریں گےہم خاک میں ملنے کی تمنا نہ کریں گےMomin Khan Momin (1800–1852)
  2. یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیامیں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  3. افسوس شکایت نہانی نہ گئیدل پر سے رقیب کی گرانی نہ گئیMomin Khan Momin (1800–1852)
  4. کیوں زرد ہے رنگ کس لیے آنسو لالکس واسطے ہر گھڑی رہے ہے تو نڈھالMomin Khan Momin (1800–1852)
  5. مومن یہ اثر سیاہ مستی کا نہ ہواندیشہ کبھی بلند و پستی کا نہ ہوMomin Khan Momin (1800–1852)
  6. ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تابپر ذکر جہاں ہوا، ہوا جی ہے تابMomin Khan Momin (1800–1852)
  7. آپ کی کون سی بڑھی عزتمیں اگر بزم میں ذلیل ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
  8. بے خود تھے غش تھے محو تھے دنیا کا غم نہ تھاجینا وصال میں بھی تو ہجراں سے کم نہ تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
  9. چل دئیے سوئے حرم کوئے بتاں سے مومنؔجب دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  10. ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑےصیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیںMomin Khan Momin (1800–1852)
  11. رہ کے مسجد میں کیا ہی گھبرایارات کاٹی خدا خدا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
  12. سوز غم سے اشک کا ایک ایک قطرہ جل گیاآگ پانی میں لگی ایسی کہ دریا جل گیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  13. شب جو مسجد میں جا پھنسے مومنؔرات کاٹی خدا خدا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
  14. کر علاج جوش وحشت چارہ گرلا دے اک جنگل مجھے بازار سےMomin Khan Momin (1800–1852)
  15. کس پہ مرتے ہو آپ پوچھتے ہیںمجھ کو فکر جواب نے ماراMomin Khan Momin (1800–1852)
  16. کسی کا ہوا آج کل تھا کسی کانہ ہے تو کسی کا نہ ہوگا کسی کاMomin Khan Momin (1800–1852)
  17. کیا جانے کیا لکھا تھا اسے اضطراب میںقاصد کی لاش آئی ہے خط کے جواب میںMomin Khan Momin (1800–1852)
  18. کیا ملا عرض مدعا کر کےبات بھی کھوئی التجا کر کےMomin Khan Momin (1800–1852)
  19. معشوق سے بھی ہم نے نبھائی برابریواں لطف کم ہوا تو یہاں پیار کم ہواMomin Khan Momin (1800–1852)
  20. نہ کرو اب نباہ کی باتیںتم کو اے مہربان دیکھ لیاMomin Khan Momin (1800–1852)
  21. نہ مانوں گا نصیحت پر نہ سنتا میں تو کیا کرتاکہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
  22. وہ آئے ہیں پشیماں لاش پر ابتجھے اے زندگی لاؤں کہاں سےMomin Khan Momin (1800–1852)
  23. ہاتھ ٹوٹیں میں نے گر چھیڑی ہوں زلفیں آپ کیآپ کے سر کی قسم باد صبا تھی میں نہ تھاMomin Khan Momin (1800–1852)
  24. ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرارہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیںMomin Khan Momin (1800–1852)
  25. ہے کچھ تو بات مومنؔ جو چھا گئی خموشیکس بت کو دے دیا دل کیوں بت سے بن گئے ہوMomin Khan Momin (1800–1852)