ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تاب
Momin Khan Momin (1800–1852)ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تاب
پر ذکر جہاں ہوا، ہوا جی ہے تاب
یارب کہ مؤثر نہ ہو کہنا میرا
یارب ہے ترا بندۂ عاصی بے تاب
ہے شرم گنہ سے جاں کیسی بے تاب
پر ذکر جہاں ہوا، ہوا جی ہے تاب
یارب کہ مؤثر نہ ہو کہنا میرا
یارب ہے ترا بندۂ عاصی بے تاب