Poetry
- یہ سرائے ہے یہاں کس کا ٹھکانا ڈھونڈویاں تو آتے ہیں مسافر سو چلے جاتے ہیںIbn-e-Insha (1927–1978)
- پچھلے پہر کے سناٹے میںکس کی سسکی کس کا نالہIbn-e-Insha (1927–1978)
- آن کے اس بیمار کو دیکھے تجھ کو بھی توفیق ہوئیلب پر اس کے نام تھا تیرا جب بھی درد شدید ہواIbn-e-Insha (1927–1978)
- ایک سے ایک جنوں کا مارا اس بستی میں رہتا ہےایک ہمیں ہشیار تھے یارو ایک ہمیں بد نام ہوئےIbn-e-Insha (1927–1978)
- حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھاتم بھی کوئی منصور ہو جو سولی پہ چڑھو خاموش رہوIbn-e-Insha (1927–1978)
- سن تو لیا کسی نار کی خاطر کاٹا کوہ نکالی نہرایک ذرا سے قصے کو اب دیتے کیوں ہو طول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- کب لوٹا ہے بہتا پانی بچھڑا ساجن روٹھا دوستہم نے اس کو اپنا جانا جب تک ہاتھ میں داماں تھاIbn-e-Insha (1927–1978)
- میرؔ سے بیعت کی ہے تو انشاؔ میر کی بیعت بھی ہے ضرورشام کو رو رو صبح کرو اب صبح کو رو رو شام کروIbn-e-Insha (1927–1978)
- وحشت دل کے خریدار بھی ناپید ہوئےکون اب عشق کے بازار میں کھولے گا دکاںIbn-e-Insha (1927–1978)
- یوں ہی تو نہیں دشت میں پہنچے یوں ہی تو نہیں جوگ لیابستی بستی کانٹے دیکھے جنگل جنگل پھول میاںIbn-e-Insha (1927–1978)