Poetry
- جنبش ارض و سماوات میں آئے ہوئے ہیںان دنوں گردش حالات میں آئے ہوئے ہیںZaeem Rasheed (b. 1984)
- دیار شوق میں آئے تھے ایک خواب کے ساتھگزر رہی ہے مسلسل کسی عذاب کے ساتھZaeem Rasheed (b. 1984)
- یہ بات اب کے اسے بتانا نہیں پڑے گیجو وہ ملا تو میں خرچ کر دوں گا ایک پل میںZaeem Rasheed (b. 1984)
- بے آباد گھروں میں ایسا ہوتا ہےدور کے دیس کو جانے والا کولہو کا ایک بیل بنا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)
- ہوا کو جانے یہ کیا ہوا ہےوہ سر سے پاؤں تک آج کس سبز کپکپاہٹ میں مبتلا ہےZaeem Rasheed (b. 1984)