Poetry
- پھر تیری یاد دلاتے ہیں مجھےلوگ دانستہ ستاتے ہیں مجھےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- چاند کا نور ستاروں کی ضیا بن جاؤںسوچتا ہوں کہ تری بزم میں کیا بن جاؤںYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- سب کچھ مری قسمت کا تیرے در کے قریں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- سر تیرے آستاں پہ جھکائے ہوئے ہے ہمیعنی فراز عرش پے چھائے ہوئے ہے ہمYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)
- فریاد نہیں شکر ستم کرتے رہیں گےہم خود انہیں مجبور کرم کرتے رہیں گےYadgar Husain Nashtar Khairabadi (1916–1964)