Poetry
- آئنہ دیکھ کے کہتا ہے یہ دلبر میراماہ کنعاں بھی نہیں حسن میں ہمسر میراوفا لکھنوی
- پیری میں دل شباب کا خواہاں کہاں رہاافلاس میں عروج کا ارماں کہاں رہاوفا لکھنوی
- شب فراق میں میں نالہ و فغاں کرتاتو سن کے سارا جہاں شور الاماں کرتاوفا لکھنوی
- گھٹا ہو باغ ہو پہلو میں اپنے یار جانی ہوجو یہ ساماں میسر ہو تو لطف زندگانی ہووفا لکھنوی
- یہ راز سوز محبت کبھی عیاں نہ ہواتمام خانۂ دل جل گیا دھواں نہ ہواوفا لکھنوی
- درد کا میرے مداوا وہ کریں یا نہ کریںمیں ہوں مشکور دم نزع جو پردا نہ کریںوفا لکھنوی