Poetry
- بھری بہار میں دامن دریدہ ہیں ہم لوگہمیں تھا زعم بہار آفریدہ ہیں ہم لوگRaaz Muradabadi (1916–1982)
- چمن میں آتش گل بھی نہیں دھواں بھی نہیںبہار تو یہ نہیں ہے مگر خزاں بھی نہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- غم کہ تھا حریف جاں اب حریف جاناں ہےاب وہ زلف برہم ہے اب وہ چشم گریاں ہےRaaz Muradabadi (1916–1982)
- کسی کے وعدۂ صبر آزما کی خیر کہ ہماب اعتبار کی حد سے گزرتے جاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)
- ہر اک شکست تمنا پہ مسکراتے ہیںوہ کیا کریں جو مسلسل فریب کھاتے ہیںRaaz Muradabadi (1916–1982)