Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  2. راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  3. شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
  4. لذت غم بڑھا دیجئےآپ پھر مسکرا دیجئےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  5. ہجوم گردش دوراں ہے کیا غزل کہیےدل و دماغ پریشاں ہے کیا غزل کہیےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  6. یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
  7. یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیںیہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیںRaaz Allahabadi (1929–1996)
  8. عمر جوں جوں بڑھتی ہے دل جوان ہوتا ہےرازؔ یہ حسیں غزلیں ان سفید بالوں میںRaaz Allahabadi (1929–1996)
  9. یہ میری تمنا ہے پیاسوں کے میں کام آؤںیا رب مری مٹی کو پیمانہ بنا دیناRaaz Allahabadi (1929–1996)