Poetry
- آشیاں جل گیا، گلستاں لٹ گیا، ہم قفس سے نکل کر کدھر جائیں گےاتنے مانوس صیاد سے ہو گئے، اب رہائی ملے گی تو مر جائیں گےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- راز یہ سب کو بتانے کی ضرورت کیا ہےدل سمجھتا ہے ترے ذکر میں لذت کیا ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- شب خون کا خطرہ ہے ابھی جاگتے رہناقاتل پس پردہ ہے ابھی جاگتے رہناRaaz Allahabadi (1929–1996)
- لذت غم بڑھا دیجئےآپ پھر مسکرا دیجئےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- ہجوم گردش دوراں ہے کیا غزل کہیےدل و دماغ پریشاں ہے کیا غزل کہیےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہ عطا بھی ہے ساقی واہ کیا نرالی ہےایک جام چھلکا ہے ایک جام خالی ہےRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہی وفا کا صلہ ہے تو کوئی بات نہیںیہ درد تم نے دیا ہے تو کوئی بات نہیںRaaz Allahabadi (1929–1996)
- عمر جوں جوں بڑھتی ہے دل جوان ہوتا ہےرازؔ یہ حسیں غزلیں ان سفید بالوں میںRaaz Allahabadi (1929–1996)
- یہ میری تمنا ہے پیاسوں کے میں کام آؤںیا رب مری مٹی کو پیمانہ بنا دیناRaaz Allahabadi (1929–1996)