Poetry
- اپنے دل کا حال سنانا کم سے کمآنکھوں میں آنسو بھی لانا کم سے کمMadho Kaushik (b. 1954)
- جدھر بھی دیکھو وہیں نظر میں تنہائیپھیلا گئی ہے پورے گھر میں تنہائیMadho Kaushik (b. 1954)
- جینا اگر ضرورت ہےمرنا تلخ حقیقت ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- سفر ٹھہرے تو کچھ منزل کی سوچوںذہن خاموش ہو تو دل کی سوچوںMadho Kaushik (b. 1954)
- کوئی رشتہ پرانا ہو گیا ہےتمہیں دیکھے زمانہ ہو گیا ہےMadho Kaushik (b. 1954)
- کیوں شور مچاتے ہو بے کار میں پہلے سےجب جھوٹ ہی چھپتا ہے اخبار میں پہلے سےMadho Kaushik (b. 1954)
- ندی کی ناؤ کی یا حوصلوں کیکہانی تو سناؤ دل جلوں کیMadho Kaushik (b. 1954)
- ہر لمحہ بیگانہ ہےپر کسنے پہچانا ہےMadho Kaushik (b. 1954)