Poetry
- جب سر شام کوئی یاد مچل جاتی ہےدل کے ویرانے میں اک شمع سی جل جاتی ہےKaleem Usmani (1928–2000)
- رات پھیلی ہے تیرے سرمئی آنچل کی طرحچاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے پاگل کی طرحKaleem Usmani (1928–2000)
- رات کی زلفیں بھیگی بھیگی اور عالم تنہائی کاکتنے درد جگا دیتا ہے اک جھونکا پروائی کاKaleem Usmani (1928–2000)
- ہے اگرچہ شہر میں اپنی شناسائی بہتپھر بھی رہتا ہے ہمیں احساس تنہائی بہتKaleem Usmani (1928–2000)
- جب کسی نے قد و گیسو کا فسانہ چھیڑابات بڑھ کے رسن و دار تک آ پہنچی ہےKaleem Usmani (1928–2000)
- ہے زیب گلو کب سے مرے دار کا پھندامجرم ہوں اگر میں تو سزا کیوں نہیں دیتےKaleem Usmani (1928–2000)