Poetry
- احباب میرے درد سے کچھ بے خبر نہ تھےیہ اور بات ہے وہ کوئی چارہ گر نہ تھےJ. P. Saeed (b. 1932)
- تھم گئے اشک بھی برسے ہوئے بادل کی طرحدل کی بیتابی وہی آج بھی ہے کل کی طرحJ. P. Saeed (b. 1932)
- خوشی ملی نہ اگر مجھ کو ذوق غم تو ملاملی نہ دولت دنیا مجھے قلم تو ملاJ. P. Saeed (b. 1932)
- سحر کا نور ہے تاروں کا انعکاس نہیںفریب خوردہ ہو تم یا ضیا شناس نہیںJ. P. Saeed (b. 1932)
- شکست و فتح مقابل سے بے نیاز تو ہےبہ فیض دار و رسن عشق سرفراز تو ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- کچھ یاد نہیں اس کو کہ کیا بھول گیا ہےدل جیسے کہ جینے کی ادا بھول گیا ہےJ. P. Saeed (b. 1932)
- ہے ہماری دوستی کا یہی مختصر فسانہترا شوق خودنمائی مرا ذوق عاشقانہJ. P. Saeed (b. 1932)
- یقین جس کا ہے وہ بات بھی گماں ہی لگےوہ مہربان ہے لیکن بلائے جاں ہی لگےJ. P. Saeed (b. 1932)
- یہ کسی نے تم سے غلط کہا مجھے کارواں کی تلاش ہےجہاں میں ہوں تم ہو کوئی نہ ہو مجھے اس جہاں کی تلاش ہےJ. P. Saeed (b. 1932)