Poetry
- اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہےہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- عید مبارک آئی ہےسچی خوشیاں لائی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کروFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- عقل گم ہے دل پریشاں ہے نظر بیتاب ہےجستجو سے بھی نہیں ملتا سراغ زندگیFaiz Ludhianvi (1911–1995)
- غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)