Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اٹھ از سر نو دہر کے حالات بدل ڈالتدبیر سے تقدیر کے دن رات بدل ڈالFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  2. اس میں کیا شک ہے تجارت بادشاہی کاج ہےغور کر کے دیکھ لو تاجر کے سر پر تاج ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  3. اے کہ تو غفلت میں ہے ڈوبا ہواکام کرنا سیکھ تجھ کو کیا ہواFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  4. اے نئے سال بتا تجھ میں نیاپن کیا ہےہر طرف خلق نے کیوں شور مچا رکھا ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  5. تیز سی تلوار سادہ سا قلمبس یہی دو طاقتیں ہیں بیش و کمFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  6. جس قدر دنیا میں مخلوقات ہےسب سے اشرف آدمی کی ذات ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  7. عید مبارک آئی ہےسچی خوشیاں لائی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  8. غور کے قابل ہے دنیا کا نظاماس کا ہر ذرہ ہے عبرت کا مقامFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  9. کچھ کام کرو کچھ کام کرودنیا میں پیدا نام کروFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  10. نیک بچے دل سے کرتے ہیں ادب استاد کاباپ کی الفت سے بہتر ہے غضب استاد کاFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  11. وہ بشر جو پڑھ کے بھی کہتا ہو یوںبن کے طالب اور کچھ حاصل کروںFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  12. ہر دم علم سکھاتی ہےعقل کے راز بتاتی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  13. عقل گم ہے دل پریشاں ہے نظر بیتاب ہےجستجو سے بھی نہیں ملتا سراغ زندگیFaiz Ludhianvi (1911–1995)
  14. غریبی کس بلا کا نام ہے ان کی بلا جانےخدا ہے جن کی دولت جن کا شیوہ زر پرستی ہےFaiz Ludhianvi (1911–1995)