Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  2. ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئےبے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  3. مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیافاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیاEjaz Siddiqi (1913–1978)
  4. ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  5. نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
  6. نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
  7. وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوااور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سواEjaz Siddiqi (1913–1978)
  8. ہوگی گواہ خاک ہندوستاں ہماریاس کی کیاریوں سے پھوٹی زباں ہماریEjaz Siddiqi (1913–1978)