Poetry
- دنیا سبب شورش غم پوچھ رہی ہےاک مہر خموشی ہے کہ ہونٹوں پہ لگی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ذروں کا مہر و ماہ سے یارانہ چاہئےبے نوریوں کو نور سے چمکانا چاہئےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- مل سکے گی اب بھی داد آبلہ پائی تو کیافاصلے کم ہو گئے منزل قریب آئی تو کیاEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ناسزا عالم امکاں میں سزا لگتا ہےناروا بھی کسی موقع پہ روا لگتا ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- نظام فکر نے بدلا ہی تھا سوال کا رنگجھلک اٹھا کئی چہروں سے انفعال کا رنگEjaz Siddiqi (1913–1978)
- نور کی کرن اس سے خود نکلتی رہتی ہےوقت کٹتا رہتا ہے رات ڈھلتی رہتی ہےEjaz Siddiqi (1913–1978)
- وحشت آثار و سکوں سوز نظاروں کے سوااور سب کچھ ہے گلستاں میں بہاروں کے سواEjaz Siddiqi (1913–1978)
- ہوگی گواہ خاک ہندوستاں ہماریاس کی کیاریوں سے پھوٹی زباں ہماریEjaz Siddiqi (1913–1978)