Poetry
- اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہمٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں ہمEhsan Ali Khan (1922–1991)
- پھر اندھیروں نے راستے روکےپھر نئے خضر ہیں نئے دھوکےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اورہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اورEhsan Ali Khan (1922–1991)
- ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤپڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤEhsan Ali Khan (1922–1991)
- مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچامرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
- اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصداب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)