Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اب تو بوسیدہ ہو چلے ہیں ہمٹوٹنے پھوٹنے لگے ہیں ہمEhsan Ali Khan (1922–1991)
  2. پھر اندھیروں نے راستے روکےپھر نئے خضر ہیں نئے دھوکےEhsan Ali Khan (1922–1991)
  3. حفظ گل کے لئے رکھتے جو نگہباں کچھ اورہو گیا پھولوں سے محروم گلستاں کچھ اورEhsan Ali Khan (1922–1991)
  4. ہماری سمت ہیں سارے ڈھلاؤپڑا ہر سیل کا ہم پر دباؤEhsan Ali Khan (1922–1991)
  5. مرے کپڑوں کو کیڑے کھا گئے تو میں نے یہ سوچامرے ننگے بدن کا بھی یہی انجام ہونا ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)
  6. اشکوں کے نشاں پرچۂ سادہ پہ ہیں قاصداب کچھ نہ بیاں کر یہ عبارت ہی بہت ہےEhsan Ali Khan (1922–1991)