Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیںکیوں یہ کمبخت مقدر سنورتا نہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  2. تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سےتعلق نہیں جب دعا کا اثر سےDeepak Purohit (b. 1954)
  3. میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوںعجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
  4. نہ لازم توقع ہے اہل محل سےکرو زیست شاداب علم و عمل سےDeepak Purohit (b. 1954)
  5. اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھےشکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہتDeepak Purohit (b. 1954)
  6. ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاںنمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاںDeepak Purohit (b. 1954)
  7. ایک عمر بھر میں طے یہ سفر مختصر ہواشہر خموشاں گھر سے بہت دور تو نہ تھاDeepak Purohit (b. 1954)
  8. تو بچ رہے گا یقیناً یہ صرف آنکھوں میںبچایا تم نے نہ پانی جو وقت کے رہتےDeepak Purohit (b. 1954)
  9. تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقاماتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہےDeepak Purohit (b. 1954)
  10. جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھناگراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کوDeepak Purohit (b. 1954)
  11. خوب رو کون یہ آیا چمن میں آج کہ یاںشرم سے سرخ ہوئے جاتے ہیں یہ پھول سبھیDeepak Purohit (b. 1954)
  12. خوشامد تابع داری منت و خدمت سجود حسنازل سے دیدنی ہے بے بسی و عاجزیٔ عشقDeepak Purohit (b. 1954)
  13. سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاریکہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  14. عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاںچونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کیDeepak Purohit (b. 1954)
  15. کہاں جرأت ان اشکوں کی کہ دہری آنکھ کی لانگھیںہے پہرا ضبط کا ایسا کہ سہمے سہمے رہتے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
  16. کہ ہے مختصر داستاں عشق کیگلے مل کے کوئی گلے پڑ گیاDeepak Purohit (b. 1954)
  17. لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیارDeepak Purohit (b. 1954)
  18. وطن پرستی ہمارا مذہب ہیں جسم و جاں ملک کی امانتکریں گے برپا قہر عدو پر رہے گا دائم وطن سلامتDeepak Purohit (b. 1954)
  19. ہوس زر نے کیا رشتوں کا جو حال نہ پوچھخوں رلاتا ہے یہاں خون کا رشتہ اپناDeepak Purohit (b. 1954)
  20. ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاںدعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میںDeepak Purohit (b. 1954)
  21. یوں گفتگوئے الفت دلچسپ ہم کریں گےآنکھوں سے تم کہو گے آنکھوں سے ہم سنیں گےDeepak Purohit (b. 1954)
  22. یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نےسمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوںDeepak Purohit (b. 1954)