Poetry
- اف یہ دل حادثوں سے ابھرتا نہیںکیوں یہ کمبخت مقدر سنورتا نہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- تو کیا رابطہ پھر خدا کا بشر سےتعلق نہیں جب دعا کا اثر سےDeepak Purohit (b. 1954)
- میں مدت سے تری آمد کا یوں عالم سجائے ہوںعجب ہے بے خودی دہلیز پہ نظریں جمائے ہوںDeepak Purohit (b. 1954)
- نہ لازم توقع ہے اہل محل سےکرو زیست شاداب علم و عمل سےDeepak Purohit (b. 1954)
- اچھا ہوا زبان خموشی نہ تم پڑھےشکوے مرے وگرنہ رلاتے تمہیں بہتDeepak Purohit (b. 1954)
- ازل سے برسے ہے پاکیزگی فلک سے یہاںنمایاں ہووے ہے پھر شکل بہن میں وہ یہاںDeepak Purohit (b. 1954)
- ایک عمر بھر میں طے یہ سفر مختصر ہواشہر خموشاں گھر سے بہت دور تو نہ تھاDeepak Purohit (b. 1954)
- تو بچ رہے گا یقیناً یہ صرف آنکھوں میںبچایا تم نے نہ پانی جو وقت کے رہتےDeepak Purohit (b. 1954)
- تھا کبھی ان کی نگاہوں میں بلند اپنا مقاماتنی اونچائی سے گر کر بھی کوئی بچتا ہےDeepak Purohit (b. 1954)
- جب آنا خواب میں ہولے سے نرمی سے قدم رکھناگراں ہے اک ذرا آہٹ ترے محو تصور کوDeepak Purohit (b. 1954)
- خوب رو کون یہ آیا چمن میں آج کہ یاںشرم سے سرخ ہوئے جاتے ہیں یہ پھول سبھیDeepak Purohit (b. 1954)
- خوشامد تابع داری منت و خدمت سجود حسنازل سے دیدنی ہے بے بسی و عاجزیٔ عشقDeepak Purohit (b. 1954)
- سیہ بختی کا سایہ دیدہ و دل پر ہے یوں تاریکہ اک مدت سے میرے دن بھی کجلائے ہوئے سے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- عجب چلن ہے یہ بازار عشق کا کہ یہاںچونی چلتی ہے روپیے میں حسن والوں کیDeepak Purohit (b. 1954)
- کہاں جرأت ان اشکوں کی کہ دہری آنکھ کی لانگھیںہے پہرا ضبط کا ایسا کہ سہمے سہمے رہتے ہیںDeepak Purohit (b. 1954)
- کہ ہے مختصر داستاں عشق کیگلے مل کے کوئی گلے پڑ گیاDeepak Purohit (b. 1954)
- لمحات وصل یاد جو آئے شب فراقیک لخت سرخ ہو گئے عارض بے اختیارDeepak Purohit (b. 1954)
- وطن پرستی ہمارا مذہب ہیں جسم و جاں ملک کی امانتکریں گے برپا قہر عدو پر رہے گا دائم وطن سلامتDeepak Purohit (b. 1954)
- ہوس زر نے کیا رشتوں کا جو حال نہ پوچھخوں رلاتا ہے یہاں خون کا رشتہ اپناDeepak Purohit (b. 1954)
- ہے خوب منظر چارہ گری کہ ہم نے یہاںدعا کے در پہ ہے دیکھا دوا کو سجدے میںDeepak Purohit (b. 1954)
- یوں گفتگوئے الفت دلچسپ ہم کریں گےآنکھوں سے تم کہو گے آنکھوں سے ہم سنیں گےDeepak Purohit (b. 1954)
- یہ کیسی بد دعا دی ہے کسی نےسمندر ہوں مگر کھارا ہوا ہوںDeepak Purohit (b. 1954)