Poetry
- جب سے کسی سے درد کا رشتہ نہیں رہاجینا ہمارا تب سے ہی جینا نہیں رہاdarvesh bharti (b. 1937)
- جب محبت کا کسی شے پہ اثر ہو جائےایک ویران مکاں بولتا گھر ہو جائےdarvesh bharti (b. 1937)
- خوش فہمیٔ ہنر نے سنبھلنے نہیں دیامجھ کو مری انا ہی نے پھلنے نہیں دیاdarvesh bharti (b. 1937)
- درد اوروں کا دل میں گر رکھئےبے غرض ہو کے عمر بھر رکھئےdarvesh bharti (b. 1937)
- سامنے جو کہا نہیں ہوتاتم سے کوئی گلہ نہیں ہوتاdarvesh bharti (b. 1937)