Poetry
- آنا بھی آنے والے کا افسانہ ہو گیادشمن کے کہنے سننے سے کیا کیا نہ ہو گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- سارے کشتوں سے جدا ڈھنگ اضطراب دل کا ہےکیوں نہ ہو بسمل بھی تو کس چلبلے قاتل کا ہےانوری جہاں بیگم حجاب
- کہاں ممکن ہے پوشیدہ غم دل کا اثر ہونالبوں کا خشک ہو جانا بھی ہے آنکھوں کا تر ہوناانوری جہاں بیگم حجاب
- کھینچ کر تلوار جب ترک ستم گر رہ گیاہائے رے شوق شہادت میں تڑپ کر رہ گیاانوری جہاں بیگم حجاب
- محیط رحمت ہے جوش افزا ہوئی ہے ابر سخا کی آمدخدا کی ہر چیز کہہ رہی ہے کہ اب ہے نور خدا کی آمدانوری جہاں بیگم حجاب
- مزہ دیتا ہے یاد آ کر ترا بسمل بنا دینالگا دینا ذرا تیر نظر ہاں پھر لگا دیناانوری جہاں بیگم حجاب
- وہ مقتل میں اگر کھینچے ہوئے تلوار بیٹھے ہیںتو ہم بھی جان دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیںانوری جہاں بیگم حجاب
- عشق پر دانہ نہیں محتاج تحریک جمالجلنے والا جل بجھے گا شمع سوزاں دیکھ کرانوری جہاں بیگم حجاب