Poetry
- ہماری سیر کو گلشن سے کوئے یار بہتر تھانفیر بلبلوں سے نالہ ہائے زار بہتر تھاShah Hatim (1699–1783)
- ہماری عقل بے تدبیر پر تدبیر ہنستی ہےاگر تدبیر ہم کرتے ہیں تو تقدیر ہنستی ہےShah Hatim (1699–1783)
- ہم کو کب انتظار ہے فصل بہار ہو نہ ہوداغ جگر شگفتہ باد گل بہ کنار ہو نہ ہوShah Hatim (1699–1783)
- ہمیں یاد آوتی ہیں باتیں اس گل رو کی رہ رہ کےنہیں ہیں باغ میں مشتاق ہم بلبل کے چہ چہ کےShah Hatim (1699–1783)
- ہو رہا ہے ابر اور کرتا ہے وہ جانانہ رقصبرق گرد اس کے کرے ہے آ کے بے تابانہ رقصShah Hatim (1699–1783)
- ہووے وہ شوخ چشم اگر مجھ سے چار چشمقرباں کروں میں چشم پر اس کے ہزار چشمShah Hatim (1699–1783)
- یار نکلا ہے آفتاب کی طرحکون سی اب رہی ہے خواب کی طرحShah Hatim (1699–1783)
- دیکھا کسی نے ہم سے زمانے نے کیا کیااور کیا کہیں کہ یار یگانے نے کیا کیاShah Hatim (1699–1783)
- ہولی (شیخ ظہور الدین حاتم)Shah Hatim (1699–1783)