Poetry
- ان کے رخسار پہ ڈھلکے ہوئے آنسو توبہمیں نے شبنم کو بھی شعلوں پہ مچلتے دیکھاSahir Ludhianvi (1921–1980)
- بے پئے ہی شراب سے نفرتیہ جہالت نہیں تو پھر کیا ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- پھر نہ کیجے مری گستاخ نگاہی کا گلادیکھیے آپ نے پھر پیار سے دیکھا مجھ کوSahir Ludhianvi (1921–1980)
- تم میرے لیے اب کوئی الزام نہ ڈھونڈوچاہا تھا تمہیں اک یہی الزام بہت ہےSahir Ludhianvi (1921–1980)
- چند کلیاں نشاط کی چن کر مدتوں محو یاس رہتا ہوںتیرا ملنا خوشی کی بات سہی تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میںجو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہزار برق گرے لاکھ آندھیاں اٹھیںوہ پھول کھل کے رہیں گے جو کھلنے والے ہیںSahir Ludhianvi (1921–1980)
- ہم غم زدہ ہیں لائیں کہاں سے خوشی کے گیتدیں گے وہی جو پائیں گے اس زندگی سے ہمSahir Ludhianvi (1921–1980)
- یوں ہی دل نے چاہا تھا رونا رلاناتری یاد تو بن گئی اک بہاناSahir Ludhianvi (1921–1980)