Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
  2. حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  3. خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
  4. دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔکیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوزTaban Abdul Hai (1715–1749)
  5. زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  6. صحبت شیخ میں تو رات کو جایا مت کروہ سکھا دے گا تجھے جان نماز معکوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
  7. کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کرشاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہوTaban Abdul Hai (1715–1749)
  8. کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
  9. لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
  10. محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
  11. ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پرتری صورت مجھے آتی ہے جب یادTaban Abdul Hai (1715–1749)