Poetry
- تو کون ہے اے واعظ جو مجھ کو ڈراتا ہےمیں کی بھی ہیں تو کی ہیں اللہ کی تقصیریںTaban Abdul Hai (1715–1749)
- حرم کو چھوڑ رہوں کیوں نہ بت کدے میں شیخکہ یاں ہر ایک کو ہے مرتبہ خدائی کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- خدا دیوے اگر قدرت مجھے تو ضد ہے زاہد کیجہاں تک مسجدیں ہیں میں بناؤں توڑ بت خانہTaban Abdul Hai (1715–1749)
- دیکھ قاصد کو مرے یار نے پوچھا تاباںؔکیا مرے ہجر میں جیتا ہے وہ غم ناک ہنوزTaban Abdul Hai (1715–1749)
- زاہد ترا تو دین سراسر فریب ہےرشتے سے تیرے سبحہ کے زنار ہی بھلاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- صحبت شیخ میں تو رات کو جایا مت کروہ سکھا دے گا تجھے جان نماز معکوسTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کرتا ہے گر تو بت شکنی تو سمجھ کے کرشاید کہ ان کے پردے میں زاہد خدا بھی ہوTaban Abdul Hai (1715–1749)
- کس کس طرح کی دل میں گزرتی ہیں حسرتیںہے وصل سے زیادہ مزا انتظار کاTaban Abdul Hai (1715–1749)
- لے میری خبر چشم مرے یار کی کیوں کربیمار عیادت کرے بیمار کی کیوں کرTaban Abdul Hai (1715–1749)
- محفل کے بیچ سن کے مرے سوز دل کا حالبے اختیار شمع کے آنسو ڈھلک پڑےTaban Abdul Hai (1715–1749)
- ملوں ہوں خاک جوں آئینہ منہ پرتری صورت مجھے آتی ہے جب یادTaban Abdul Hai (1715–1749)