Poetry
- ایسے میں وہ ہوں باغ ہو ساقی ہو اے قمرؔلگ جائیں چار چاند شب ماہتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمرگھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گےQamar Jalalvi (1887–1968)
- تم میں جو بات ہے وہ بات نہیں آئی ہےکیا یہ تصویر کسی اور سے کھنچوائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھولصدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہارQamar Jalalvi (1887–1968)
- جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
- جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سےچاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کیQamar Jalalvi (1887–1968)
- روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میںشاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کووہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
- سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میںنقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
- شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کررہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
- شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہاب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہمQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سےستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
- قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکاہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
- مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہےتمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہQamar Jalalvi (1887–1968)
- مدتیں ہوئیں اب تو جل کے آشیاں اپناآج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتا ہوںQamar Jalalvi (1887–1968)
- میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارےقمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
- نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نےکچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نےQamar Jalalvi (1887–1968)
- نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہےکہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتیQamar Jalalvi (1887–1968)
- وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
- ہر وقت محویت ہے یہی سوچتا ہوں میںکیوں برق نے جلایا مرا آشیاں نہ پوچھQamar Jalalvi (1887–1968)