Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. ایسے میں وہ ہوں باغ ہو ساقی ہو اے قمرؔلگ جائیں چار چاند شب ماہتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  2. بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمرگھٹا گھٹا کے قمرؔ کو ہلال کر دو گےQamar Jalalvi (1887–1968)
  3. تم میں جو بات ہے وہ بات نہیں آئی ہےکیا یہ تصویر کسی اور سے کھنچوائی ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  4. تیرے قربان قمرؔ منہ سر گلزار نہ کھولصدقے اس چاند سی صورت پہ نہ ہو جائے بہارQamar Jalalvi (1887–1968)
  5. جگر کا داغ چھپاؤ قمرؔ خدا کے لئےستارے ٹوٹتے ہیں ان کے دیدۂ نم سےQamar Jalalvi (1887–1968)
  6. جلوہ گر بزم حسیناں میں ہیں وہ اس شان سےچاند جیسے اے قمرؔ تاروں بھری محفل میں ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  7. ذرا روٹھ جانے پہ اتنی خوشامدقمرؔ تم بگاڑو گے عادت کسی کیQamar Jalalvi (1887–1968)
  8. روشن ہے میرا نام بڑا نامور ہوں میںشاہد ہیں آسماں کے ستارے قمر ہوں میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  9. روئیں گے دیکھ کر سب بستر کی ہر شکن کووہ حال لکھ چلا ہوں کروٹ بدل بدل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
  10. سرمے کا تل بنا کے رخ لا جواب میںنقطہ بڑھا رہے ہو خدا کی کتاب میںQamar Jalalvi (1887–1968)
  11. شب کو مرا جنازہ جائے گا یوں نکل کررہ جائیں گے سحر کو دشمن بھی ہاتھ مل کرQamar Jalalvi (1887–1968)
  12. شکریہ اے قبر تک پہنچانے والو شکریہاب اکیلے ہی چلے جائیں گے اس منزل سے ہمQamar Jalalvi (1887–1968)
  13. قمرؔ اپنے داغ دل کی وہ کہانی میں نے چھیڑیکہ سنا کئے ستارے مرا رات بھر فسانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  14. قمرؔ افشاں چنی ہے رخ پہ اس نے اس سلیقہ سےستارے آسماں سے دیکھنے کو آئے جاتے ہیںQamar Jalalvi (1887–1968)
  15. قمرؔ کسی سے بھی دل کا علاج ہو نہ سکاہم اپنا داغ دکھاتے رہے زمانے کوQamar Jalalvi (1887–1968)
  16. مجھے میرے مٹنے کا غم ہے تو یہ ہےتمہیں بے وفا کہہ رہا ہے زمانہQamar Jalalvi (1887–1968)
  17. مدتیں ہوئیں اب تو جل کے آشیاں اپناآج تک یہ عالم ہے روشنی سے ڈرتا ہوںQamar Jalalvi (1887–1968)
  18. میں ان سب میں اک امتیازی نشاں ہوں فلک پر نمایاں ہیں جتنے ستارےقمرؔ بزم انجم کی مجھ کو میسر صدارت نہیں ہے تو پھر اور کیا ہےQamar Jalalvi (1887–1968)
  19. نزع کی اور بھی تکلیف بڑھا دی تم نےکچھ نہ بن آیا تو آواز سنا دی تم نےQamar Jalalvi (1887–1968)
  20. نشیمن خاک ہونے سے وہ صدمہ دل کو پہنچا ہےکہ اب ہم سے کوئی بھی روشنی دیکھی نہیں جاتیQamar Jalalvi (1887–1968)
  21. وہ چار چاند فلک کو لگا چلا ہوں قمرؔکہ میرے بعد ستارے کہیں گے افسانےQamar Jalalvi (1887–1968)
  22. ہر وقت محویت ہے یہی سوچتا ہوں میںکیوں برق نے جلایا مرا آشیاں نہ پوچھQamar Jalalvi (1887–1968)