Poetry
- اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیاعمر بھر جس کا راستا دیکھاNasir Kazmi (1925–1972)
- بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھےتری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گاNasir Kazmi (1925–1972)
- تیری مجبوریاں درست مگرتو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کرNasir Kazmi (1925–1972)
- ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جاناذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
- میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوںتو کہاں تک چلے گا میرے ساتھNasir Kazmi (1925–1972)
- نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصرؔدبی جاتی ہیں آوازیں پرانیNasir Kazmi (1925–1972)
- یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میںپھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائیNasir Kazmi (1925–1972)