Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیاعمر بھر جس کا راستا دیکھاNasir Kazmi (1925–1972)
  2. بلاؤں گا نہ ملوں گا نہ خط لکھوں گا تجھےتری خوشی کے لیے خود کو یہ سزا دوں گاNasir Kazmi (1925–1972)
  3. تیری مجبوریاں درست مگرتو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کرNasir Kazmi (1925–1972)
  4. ذرا سی بات سہی تیرا یاد آ جاناذرا سی بات بہت دیر تک رلاتی تھیNasir Kazmi (1925–1972)
  5. میں تو بیتے دنوں کی کھوج میں ہوںتو کہاں تک چلے گا میرے ساتھNasir Kazmi (1925–1972)
  6. نئی دنیا کے ہنگاموں میں ناصرؔدبی جاتی ہیں آوازیں پرانیNasir Kazmi (1925–1972)
  7. یوں تو ہر شخص اکیلا ہے بھری دنیا میںپھر بھی ہر دل کے مقدر میں نہیں تنہائیNasir Kazmi (1925–1972)