Poetry
- الگ بیٹھے تھے پھر بھی آنکھ ساقی کی پڑی ہم پراگر ہے تشنگی کامل تو پیمانے بھی آئیں گےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- بڑھائی مے جو محبت سے آج ساقی نےیہ کانپے ہاتھ کہ ساغر بھی ہم اٹھا نہ سکےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ترے سوا بھی کہیں تھی پناہ بھول گئےنکل کے ہم تری محفل سے راہ بھول گئےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- جفا کے ذکر پہ تم کیوں سنبھل کے بیٹھ گئےتمہاری بات نہیں بات ہے زمانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- دل کی تمنا تھی مستی میں منزل سے بھی دور نکلتےاپنا بھی کوئی ساتھی ہوتا ہم بھی بہکتے چلتے چلتےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- شب انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئیکبھی اک چراغ جلا دیا کبھی اک چراغ بجھا دیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کچھ بتا تو ہی نشیمن کا پتامیں تو اے باد صبا بھول گیاMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- کہاں بچ کر چلی اے فصل گل مجھ آبلہ پا سےمرے قدموں کی گلکاری بیاباں سے چمن تک ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- گلوں سے بھی نہ ہوا جو مرا پتا دیتےصبا اڑاتی پھری خاک آشیانے کیMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- مجھے یہ فکر سب کی پیاس اپنی پیاس ہے ساقیتجھے یہ ضد کہ خالی ہے مرا پیمانہ برسوں سےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- وہ آ رہے ہیں سنبھل سنبھل کر نظارہ بے خود فضا جواں ہےجھکی جھکی ہیں نشیلی آنکھیں رکا رکا دور آسماں ہےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہٹ کے روئے یار سے تزئین عالم کر گئیںوہ نگاہیں جن کو اب تک رائیگاں سمجھا تھا میںMajrooh Sultanpuri (1919–2000)
- ہم ہیں کعبہ ہم ہیں بت خانہ ہمیں ہیں کائناتہو سکے تو خود کو بھی اک بار سجدا کیجیےMajrooh Sultanpuri (1919–2000)