Poetry
- تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جاناکہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میںجہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- چھوڑنا ہے تو نہ الزام لگا کر چھوڑوکہیں مل جاؤ تو پھر لطف ملاقات رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوںبے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جوابدل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہےاک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیںبستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دوست دل رکھنے کو کرتے ہیں بہانے کیا کیاروز جھوٹی خبر وصل سنا جاتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میںجتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دو ہی دن میں یہ صنم ہوش ربا ہوتے ہیںکل کے ترشے ہوئے بت آج خدا ہوتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیرچپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نےدل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گےاللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہےہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- کعبے میں بھی وہی ہے شوالے میں بھی وہیدونوں مکان اس کے ہیں چاہے جدھر رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتییہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- منہ پر نقاب زرد ہر اک زلف پر گلالہولی کی شام ہی تو سحر ہے بسنت کیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نور بدن سے پھیلی اندھیرے میں چاندنیکپڑے جو اس نے شب کو اتارے پلنگ پرLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نہ مانگیے جو خدا سے تو مانگیے کس سےجو دے رہا ہے اسی سے سوال ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کرنہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- واقف نہیں کہ پاؤں میں پڑتی ہیں بیڑیاںدولہے کو یہ خوشی ہے کہ میری برات ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
- وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیںحیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)