Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. تھمے آنسو تو پھر تم شوق سے گھر کو چلے جاناکہاں جاتے ہو اس طوفان میں پانی ذرا ٹھہرےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  2. جو کچھ پڑتی ہے سر پر سب اٹھاتا ہے محبت میںجہاں دل آ گیا پھر آدمی مجبور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  3. چھوڑنا ہے تو نہ الزام لگا کر چھوڑوکہیں مل جاؤ تو پھر لطف ملاقات رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  4. خواب میں نام ترا لے کے پکار اٹھتا ہوںبے خودی میں بھی مجھے یاد تری یاد کی ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  5. خوب رو ہیں سیکڑوں لیکن نہیں تیرا جوابدل ربائی میں ادا میں ناز میں انداز میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  6. دل پیار کی نظر کے لیے بے قرار ہےاک تیر اس طرف بھی یہ تازہ شکار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  7. دنیا بہت خراب ہے جائے گزر نہیںبستر اٹھاؤ رہنے کے قابل یہ گھر نہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  8. دوست دل رکھنے کو کرتے ہیں بہانے کیا کیاروز جھوٹی خبر وصل سنا جاتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  9. دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میںجتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  10. دو ہی دن میں یہ صنم ہوش ربا ہوتے ہیںکل کے ترشے ہوئے بت آج خدا ہوتے ہیںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  11. دیکھیے کیا دکھاتی ہے تقدیرچپ کھڑا ہوں گناہ گاروں میںLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  12. سمجھا لیا فریب سے مجھ کو تو آپ نےدل سے تو پوچھ لیجیے کیوں بے قرار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  13. سنتا ہوں میں کہ آج وہ تشریف لائیں گےاللہ سچ کرے کہیں جھوٹی خبر نہ ہوLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  14. غیروں سے تو فرصت تمہیں دن رات نہیں ہےہاں میرے لیے وقت ملاقات نہیں ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  15. کعبے میں بھی وہی ہے شوالے میں بھی وہیدونوں مکان اس کے ہیں چاہے جدھر رہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  16. محبت کو چھپائے لاکھ کوئی چھپ نہیں سکتییہ وہ افسانہ ہے جو بے کہے مشہور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  17. منہ پر نقاب زرد ہر اک زلف پر گلالہولی کی شام ہی تو سحر ہے بسنت کیLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  18. نور بدن سے پھیلی اندھیرے میں چاندنیکپڑے جو اس نے شب کو اتارے پلنگ پرLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  19. نہ مانگیے جو خدا سے تو مانگیے کس سےجو دے رہا ہے اسی سے سوال ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  20. نہ وہ صورت دکھاتے ہیں نہ ملتے ہیں گلے آ کرنہ آنکھیں شاد ہوتیں ہیں نہ دل مسرور ہوتا ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  21. واقف نہیں کہ پاؤں میں پڑتی ہیں بیڑیاںدولہے کو یہ خوشی ہے کہ میری برات ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)
  22. وعدہ نہیں پیام نہیں گفتگو نہیںحیرت ہے اے خدا مجھے کیوں انتظار ہےLala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)