دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں

Lala Madhav Ram Jauhar (1810–1889)

دوست دو چار نکلتے ہیں کہیں لاکھوں میں

جتنے ہوتے ہیں سوا اتنے ہی کم ہوتے ہیں