Poetry
- رہتا نہیں انسان تو مٹ جاتا ہے غم بھیسو جائیں گے اک روز زمیں اوڑھ کے ہم بھیEhsan Danish (1914–1982)
- زخم پہ زخم کھا کے جی اپنے لہو کے گھونٹ پیآہ نہ کر لبوں کو سی عشق ہے دل لگی نہیںEhsan Danish (1914–1982)
- ستا لو مجھے زندگی میں ستا لوکھلے گا پس مرگ احسان کیا تھاEhsan Danish (1914–1982)
- ضبط بھی صبر بھی امکان میں سب کچھ ہے مگرپہلے کم بخت مرا دل تو مرا دل ہو جائےEhsan Danish (1914–1982)
- کس کس کی زباں روکنے جاؤں تری خاطرکس کس کی تباہی میں ترا ہاتھ نہیں ہےEhsan Danish (1914–1982)
- میں جس رفتار سے طوفاں کی جانب بڑھتا جاتا ہوںاسی رفتار سے نزدیک ساحل ہوتا جاتا ہےEhsan Danish (1914–1982)
- میں حیراں ہوں کہ کیوں اس سے ہوئی تھی دوستی اپنیمجھے کیسے گوارہ ہو گئی تھی دشمنی اپنیEhsan Danish (1914–1982)
- نہ جانے محبت کا انجام کیا ہےمیں اب ہر تسلی سے گھبرا رہا ہوںEhsan Danish (1914–1982)
- یہ اڑی اڑی سی رنگت یہ کھلے کھلے سے گیسوتری صبح کہہ رہی ہے تری رات کا فسانہEhsan Danish (1914–1982)
- یہ کون ہنس کے صحن چمن سے گزر گیااب تک ہیں پھول چاک گریباں کئے ہوئےEhsan Danish (1914–1982)