Poetry
- اردو ہے جس کا نام ہماری زبان ہےدنیا کی ہر زبان سے پیاری زبان ہےBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- اصل وحدت کی بنا ہے عدم غیریتاس کا جب رنگ جما غیر کو اپنا جاناBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بادبانوں میں بھری ہے اس کے کیا باد نفسکشتئ عمر رواں کو تاب لنگر کی نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- بول اٹھتی کبھی چڑیا جو تری انگیا کیخوشنوائی کی نہ یوں جیتتی بلبل پالیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- تلخ کہتے تھے لو اب پی کے تو بولو زاہدہاتھ آئے ادھر استاد مزا ہے کہ نہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- جو چشم دل ربا کے وصف میں اشعار لکھتا ہوںتو ہر ہر لفظ پر اہل نظر اک صاد کرتے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- سچ ہے ان دونوں کا ہے اک عالممیری تنہائی تیری یکتائیBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- شمع رویوں کی محبت کا جو دم بھرتے ہیںایک مدت وہ ابھی بیعت پروانہ کریںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- عقدۂ قسمت نہیں کھلتا مرایہ بھی ترا بند قبا ہو گیاBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- وصل کا کرتا ہوں جب ذکر ان سےاک تبسم تہ لب کرتے ہیںBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- وضو ہوتا ہے یاں تو شیخ اسی آب گلابی سےتیمم کے لئے تم خاک جا کر دشت میں پھانکوBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)
- یوں آؤ مرے پہلو میں تم گھر سے نکل کربو آتی ہے جس طرح گل تر سے نکل کرBrij Mohan Dattatreya Kaifi (1866–1955)