”ربط“ کا لغوی معنی ہے جوڑ یا تعلق۔ یہ وہ غیر تحریری اصول ہے کہ شعر کے دونوں مصرعے مل کر ایک ہی خیال کو مکمل کریں۔ مصرعِ اولیٰ تمہید قائم کرتا ہے — ایک منظر، ایک سوال، ایک مفروضہ۔ مصرعِ ثانی اسے ختم کرتا ہے — نتیجہ نکالتا ہے، چوٹ کرتا ہے، جواب دیتا ہے۔
ربط کے بغیر شعر صرف دو ہم قافیہ سطریں ہیں۔ ربط کے ساتھ یہ معنی کی ایک ننھی مشین بن جاتا ہے۔ غالبؔ کا مشہور مطلع لیجیے: پہلا مصرع کہتا ہے ہزاروں آرزوئیں ایسی کہ ہر ایک پر جان قربان؛ دوسرا کہتا ہے بہت سی آرزوئیں پوری ہوئیں لیکن پھر بھی کم لگیں۔ دونوں مل کر انسان کی خواہش کے بارے میں ایک ہی، چونکا دینے والی بات کہتے ہیں۔ کوئی ایک مصرع تنہا یہ بات نہیں کہہ سکتا۔
ربط شعر کا سب سے گہرا امتحان ہے۔ عظیم شعرا — میرؔ، غالبؔ، فیضؔ، اقبالؔ — ایسے شعر کہتے ہیں جہاں ایک مصرع نکال دیں تو دوسرا بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ یہی پیوستگی اصل بات ہے۔