قافیہ
قافیہ وہ ہم آواز لفظ ہے جو ہر شعر میں بدلتا ہے لیکن آواز میں ہم آہنگ رہتا ہے۔ غزل میں قافیہ ہر شعر کے مصرعِ ثانی کے آخر میں آتا ہے۔ (پہلے شعر یعنی مطلع میں یہ دونوں مصرعوں کے آخر میں آتا ہے۔)
غالبؔ کی مشہور غزل میں قافیہ ”نکلے“ پر آتا ہے — اور غزل بھر میں ہم آواز الفاظ یوں ہیں: ”دم نکلے، کم نکلے، ہم نکلے، صنم نکلے“ وغیرہ۔ ہر لفظ مختلف، لیکن ہم آواز۔
ردیف
ردیف دہرایا جانے والا لفظ یا فقرہ ہے جو ہر شعر کے مصرعِ ثانی کے آخر میں قافیے کے بعد بالکل ویسے کا ویسا دہرایا جاتا ہے۔ قافیے کے برعکس، ردیف بدلتی نہیں۔ وہی لفظ، شعر کے بعد شعر، غزل بھر میں۔
ہر غزل میں ردیف نہیں ہوتی۔ لیکن بہت سی شاندار غزلوں میں ہوتی ہے۔ فیضؔ کی مشہور غزل ”گلوں میں رنگ بھرے“ کی ردیف ”چلے“ ہے۔ ہر شعر کے آخر میں، قافیے کے بعد، وہی لفظ آتا ہے: چلے — جیسے ہر شعر کے اختتام پر ایک گھنٹی بجتی ہو۔
گلوں میں رنگ بھرے، باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلستاں کا کاروبار چلےدونوں مصرعے پڑھ کر دیکھیے کہ ”چلے“ کہاں آتا ہے۔ یہ بار بار آنے والا لفظ ردیف ہے۔ اس سے پہلے کا خانہ، جس میں ہم آواز لفظ بدلتا ہے، قافیہ ہے۔