Poetry
- خدا را آ کے مری لو خبر کہاں ہو تممرے حبیب مرے چارہ گر کہاں ہو تمYaseen Zameer
- زنجیر زلف سیاہ سمندر نگاہ شوخجاؤں کہاں فرار کا رستہ کوئی تو ہوYaseen Zameer
- کچھ وقت اپنے ساتھ گزاروں گا میں ضمیرؔخود سے اگر ملا جو کبھی کوئے یار میںYaseen Zameer
- کس سے کروں میں اپنی تباہی کا اب گلہخود ہی کماں بہ دست ہوں خود ہی شکار میںYaseen Zameer
- مدت ہوئی ہے دست و گریباں ہوئے ہمیںامید نا امیدی خدا روزگار میںYaseen Zameer
- ممکن ہے اشک بن کے رہوں چشم یار میںممکن ہے بھول جائے غم روزگار میںYaseen Zameer
- ہر آنکھ اک سوال تہی دست کے لئےکب تک مروں گا میرے خدا بار بار میںYaseen Zameer