Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیںملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیںرنجور عظیم آبادی
  2. تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سےسوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سےرنجور عظیم آبادی
  3. دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغرنجور عظیم آبادی
  4. سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہےاے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہےرنجور عظیم آبادی
  5. میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سےکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سےرنجور عظیم آبادی
  6. ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوںچل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوںرنجور عظیم آبادی
  7. یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کےکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کےرنجور عظیم آبادی
  8. جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلےتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلےرنجور عظیم آبادی