Poetry
- اگرچہ ہتھیار سے ہیں ڈرتے مگر ارادے بڑے بڑے ہیںملے ہمیں تخت ورنہ تختہ ہم اپنی اس بات پر اڑے ہیںرنجور عظیم آبادی
- تہہ و بالا جہاں کو کر رکھا ہے اپنی اودھم سےسوا اس کے کہیں ہم کیا خدا ہی سمجھے ویلیم سےرنجور عظیم آبادی
- دیتا ہے مجھ کو چرخ کہن بار بار داغاف ایک میرا سینہ ہے اس پر ہزار داغرنجور عظیم آبادی
- سودائے سجدہ شام و سحر میرے سر میں ہےاے بت کشش کچھ ایسی ترے سنگ در میں ہےرنجور عظیم آبادی
- میں اور ہم آغوش ہوں اس رشک پری سےکب اس کی توقع مجھے بے بال و پری سےرنجور عظیم آبادی
- ہو رہے ہیں نت نئے قانون جاری ان دنوںچل رہی ہے دل پہ عالم کے کٹاری ان دنوںرنجور عظیم آبادی
- یقیناً ہے کوئی ماہ منور پیچھے چلمن کےکہ اس کی پتلیوں سے آ رہا ہے نور چھن چھن کےرنجور عظیم آبادی
- جنازہ دھوم سے اس عاشق جانباز کا نکلےتماشے کو عجب کیا وہ بت دمباز آ نکلےرنجور عظیم آبادی