Poetry
- احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہےافراط بندگی نے دیوانہ کر دیا ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
- اس در کی سی راحت بھی دو عالم میں کہیں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
- سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیںکہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
- نہیں کہ اپنی تباہی کا رازؔ کو غم ہےتمہاری زحمت عہد کرم کا ماتم ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
- اگر گناہ کے قصے بھی کہہ دیئے تجھ سےگناہ گار کو یا رب ثواب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
- ٹھہر کے تلووں سے کانٹے نکالنے والےیہ ہوش ہے تو جنوں کامیاب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
- سزا کے جھیلنے والے یہ سوچنا ہے گناہکوئی قصور بھی تجھ سے کبھی ہوا کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
- وہ سامنے سر منزل چراغ جلتے ہیںجواب پاؤں نہ دیتے تو میں کہاں ہوتاRaaz Yazdani (1908–1963)