Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. احساس بندگی سے بیگانہ کر دیا ہےافراط بندگی نے دیوانہ کر دیا ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  2. اس در کی سی راحت بھی دو عالم میں کہیں ہےجینا بھی یہیں ہے مجھے مرنا بھی یہیں ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  3. سوچئے ہم سے تغافل بھی بجا ہے کہ نہیںکہ یہی مقصد ارباب فنا ہے کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  4. نہیں کہ اپنی تباہی کا رازؔ کو غم ہےتمہاری زحمت عہد کرم کا ماتم ہےRaaz Yazdani (1908–1963)
  5. اگر گناہ کے قصے بھی کہہ دیئے تجھ سےگناہ گار کو یا رب ثواب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
  6. ٹھہر کے تلووں سے کانٹے نکالنے والےیہ ہوش ہے تو جنوں کامیاب کیا ہوگاRaaz Yazdani (1908–1963)
  7. سزا کے جھیلنے والے یہ سوچنا ہے گناہکوئی قصور بھی تجھ سے کبھی ہوا کہ نہیںRaaz Yazdani (1908–1963)
  8. وہ سامنے سر منزل چراغ جلتے ہیںجواب پاؤں نہ دیتے تو میں کہاں ہوتاRaaz Yazdani (1908–1963)