Poetry
- اک رات بخت سوں میں رنداں کا سات پایاعرفاں کے ملک دیں پر حق سوں برات پایاقربی ویلوری
- خدا ہونا بی مشکل ہے بندہ ہونا بی مشکل ہےسمجھتا ہے یو نکتے کوں جو عارف صاحب دل ہےقربی ویلوری
- کم نگاہی ہور تغافل مت کر اے ماہ تماممک ترا کرتا ہے غمزہ کام عاشق کا تمامقربی ویلوری
- ماہ من شمع تمن دل کے شبستان میں آنور دیدہ ہو میری چشم کے ایوان میں آقربی ویلوری
- نہ ترا اے نگار بہتر ہےرخ پہ لہو کا نکھار بہتر ہےقربی ویلوری
- یک رات میں گیا تھا رنداں کے انجمن میںبولے کہ اے ہوائی یو نکتہ رک تو من میںقربی ویلوری