Poetry
- اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہےگرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہےOsama Zakir (b. 1988)
- جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوںتب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوںOsama Zakir (b. 1988)
- رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میںصبح کے سامنے دیوار ہوئی آنکھوں میںOsama Zakir (b. 1988)
- سوکھ جاتی ہے مری چشم رواں بارش میںآسماں ہوتا رہے اشک فشاں بارش میںOsama Zakir (b. 1988)
- کتنے گرداب کھو گئے مجھ میںمیرے سب خواب کھو گئے مجھ میںOsama Zakir (b. 1988)
- منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہےآنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہےOsama Zakir (b. 1988)
- میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھامری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھاOsama Zakir (b. 1988)
- وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھامیں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھاOsama Zakir (b. 1988)