Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. اسی کے قدموں سے ایک چہرہ نکالنا ہےگرے شجر سے ہوا کا شجرہ نکالنا ہےOsama Zakir (b. 1988)
  2. جب آفتاب سمندر میں جا گراتا ہوںتب اپنے آپ سے باہر نکل کے آتا ہوںOsama Zakir (b. 1988)
  3. رات تصویر نمودار ہوئی آنکھوں میںصبح کے سامنے دیوار ہوئی آنکھوں میںOsama Zakir (b. 1988)
  4. سوکھ جاتی ہے مری چشم رواں بارش میںآسماں ہوتا رہے اشک‌ فشاں بارش میںOsama Zakir (b. 1988)
  5. کتنے گرداب کھو گئے مجھ میںمیرے سب خواب کھو گئے مجھ میںOsama Zakir (b. 1988)
  6. منظر کا احسان اتارا جا سکتا ہےآنکھ کو یارا بھوکا مارا جا سکتا ہےOsama Zakir (b. 1988)
  7. میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھامری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھاOsama Zakir (b. 1988)
  8. وینٹیلیٹر جسم کو نقلی سانسوں سے بھرتا تھامیں زندہ تھا اخراجات کے بوجھ تلے مرتا تھاOsama Zakir (b. 1988)