Poetry
- آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
- اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میںکوئی بھی اس مکان میں نہ رہاNadir Kakorvi (1857–1912)
- بڑھاؤ وعدۂ فردا پہ تم اپنی عبادت بھیکہ فردا کیا نہ بھولوں گا میں فردائے قیامت بھیNadir Kakorvi (1857–1912)
- پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
- زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہےابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کرزمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کرNadir Kakorvi (1857–1912)
- مضموں نہیں ہے صاف نو آہنگ راز ہےہر حرف شعر کا لب خاموش ساز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- یہ وضع قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہےنئی تہذیب سے تجدید ملت ہونے والی ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
- دھرتی ماتاNadir Kakorvi (1857–1912)