Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آج او نالہ شرر بار ہو تاثیر کے ساتھہم نے میدان بدا ہے فلک پیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  2. آج ہم اس کو لڑا دیں گے ترے تیر کے ساتھآہ بھی تیر ہے گر آہ ہو تاثیر کے ساتھNadir Kakorvi (1857–1912)
  3. اب نہ حسرت نہ پاس ہے دل میںکوئی بھی اس مکان میں نہ رہاNadir Kakorvi (1857–1912)
  4. بڑھاؤ وعدۂ فردا پہ تم اپنی عبادت بھیکہ فردا کیا نہ بھولوں گا میں فردائے قیامت بھیNadir Kakorvi (1857–1912)
  5. پھیر لیتا ہے مکدر ہو کے منہ جس سے کہیںہائے جو جی پر گزرتی ہے وہ ہم کس سے کہیںNadir Kakorvi (1857–1912)
  6. زاہد کو اپنے زہد پہ کس درجہ ناز ہےاس نے سنا نہیں کہ خدا بے نیاز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  7. شکایت کر کے غصہ اور ان کا تیز کرنا ہےابھی تو گفتگوئے مصلحت آمیز کرنا ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  8. کدورت بڑھ کے آخر کو نکلتی ہے فغاں ہو کرزمیں یہ سر پر آ جاتی ہے اک دن آسماں ہو کرNadir Kakorvi (1857–1912)
  9. مضموں نہیں ہے صاف نو آہنگ راز ہےہر حرف شعر کا لب خاموش ساز ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  10. یہ وضع قومیت آئندہ رخصت ہونے والی ہےنئی تہذیب سے تجدید ملت ہونے والی ہےNadir Kakorvi (1857–1912)
  11. دھرتی ماتاNadir Kakorvi (1857–1912)