Poetry
- سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مستہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مستمسکین شاہ
- کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایکہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایکمسکین شاہ
- کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحثمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحثمسکین شاہ
- ماہ رو یاں ہزار کو دیکھاہم نے اب تک نہ یار کو دیکھامسکین شاہ
- میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظرہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظرمسکین شاہ
- نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کامجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کاممسکین شاہ
- شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آجروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آجمسکین شاہ