Poetry
- آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئےہجر میں ایسے فرامش گر دیدار ہوئےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملےاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابلتو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابلمفتی صدر الدین خان آزردہ
- پلا ساقیا مئے خنک آب میںکہ تھمتی نہیں توبہ مہتاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میںتھا غرق میں تصور آتش سے آب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میںیہ وہ ہے برق آگ لگا دے نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیںکیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیںکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نکلنا ہو دل سے دشوار کیوںیہ اک آہ ہے اس کا پیکاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملےیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میںاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- کاش مقبول ہو دعائے عدوکیا کروں وہ بھی مستجاب نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- فغان دہلیمفتی صدر الدین خان آزردہ