Poetry

Poet
Meter
Clear
  1. آرام کسے دیتی ہے ایام کی گردشسیدھا کوئی ہلچل میں کھڑا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  2. زندگانی کی حقیقت سے نہیں ہم واقفموت کا نام جو سنتے ہیں تو مر جاتے ہیںIbrat Gorakhpuri (1859–1918)
  3. وہ دل ہے مرا ہو نہیں سکتا جو شگفتہوہ باغ مرا ہے جو ہرا ہو نہیں سکتاIbrat Gorakhpuri (1859–1918)