Poetry
- خواہش میوۂ تر ہو یہ ضروری تو نہیںہر کوئی خلد بدر ہو یہ ضروری تو نہیںHadis Salsal (b. 1995)
- دیدۂ کم صفات اندر سےتو نے دیکھی ہے رات اندر سےHadis Salsal (b. 1995)
- سر نگاہ بساط جہاں تو کچھ بھی نہیںجہان خود نگر و کج گماں تو کچھ بھی نہیںHadis Salsal (b. 1995)
- سوال تجربۂ کار سخت اٹھنے لگاسو پھر تموج اندوہ بخت اٹھنے لگاHadis Salsal (b. 1995)
- شکن آلود ہے پیشانیٔ دوشیزۂ خلدنگہ رضواں بہ دامانئ دوشیزۂ خلدHadis Salsal (b. 1995)
- غم زدہ میں بھی نہیں اور غمیں تو بھی نہیںاب تو پابند وفا میں بھی نہیں تو بھی نہیںHadis Salsal (b. 1995)
- نشان صبح گہ جاوداں کوئی نہیں ہےچراغ دیدۂ شب زادگاں کوئی نہیں ہےHadis Salsal (b. 1995)